علی سدپارہ کی جسد خاکی کو کے-ٹو میں محفوظ کردیا گیا

موسم سرما میں کے-ٹو سرکرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستان کے مشہور کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں جان اسنوری اور موہر کی لاشوں کو ساجد سدپارہ نے کیمپ فور میں محفوظ کرلیا۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ساجد سدپارہ نے کہا کہ ‘میں نے اپنے ہیرو کی لاش کیمپ فور میں محفوظ کرلی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ارجنٹینا کے ایک کوہ پیما نے لاش کو بوٹل نیک سے کیمپ فور لانے میں بڑی مدد کی، میں نے پوری قوم کی جانب سے دعا اور قرآن خوانی کی’۔

ساجد سدپارہ نے لکھا کہ ‘محفوظ جگہ پر پاکستان کا پرچم نصب کردیا ہے’۔


قبل ازیں ساجد سدپارہ کے ساتھ کینیڈین فلم ساز ایلیا سکلے اور نیپال کے پسنگ کاجی شیرپا نے محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جوآن پابلو موہر کی لاشیں تلاش کرنے کے مشن پر گئے تھے اور اس دوران کے-ٹو بھی سر کرلیا۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں دنیا کی دوسری بلند ترین اور پاکستان کی سب سے بلند ترین چوٹی کے-ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران محمد علی سدہ پارہ اور ان کے 2 ٖغیرملکی ساتھی جان اسنوری اور چلی کے جوآن پابلو موہر 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب کو بیس کیمپ تھری سے چوٹی تک پہنچنے کا سفر شروع کیا تھا۔

موسم سرما میں کے-ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تینوں کوہ پیماؤں کا 5 فروری کی کی رات کو بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور اس کے بعد وہ لاپتا ہوگئے تھے۔
محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ بھی ان کی ٹیم کا حصہ تھا لیکن وہ ‘بوٹل نیک’ ( کے ٹو کا خطرناک ترین مقام جہاں کئی جان لیوا حادثے رونما ہوچکے ہیں) تک لاپتا ہونے والے تینوں کوہ پیماؤں کے ساتھ تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر میں مسائل کی وجہ سے انہوں نے مہم ادھوری چھوڑ کر بیس کیمپ 3 پر واپس آنا پڑا تھا.

بعد ازاں تلاش کا کام سمیٹتےہوئے 18 فروری کو تینوں لاپتا کوہ پیماؤں محمد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی تھی۔

تاہم ساجد سدپارہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ ماہ اپنے والد اور دیگر کوہ پیماؤں لاشوں کی تلاش شروع کرنے اعلان کیا تھا اور وہ کے-ٹو میں ان کی تلاش میں مصروف رہے اور بالآخر لاپتہ کوہ پیماؤں کی لاشوں کو ڈھونڈ نکالا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں